چوراہوں سے چڑھتی بل کھاتی سڑکیں، پلوں کے نیچے سے گزرتے انڈر پاسز، قطاروں میں چلتی لال بسیں، آر پار نظر آتے بس ٹرمینلز، پلوں پر دوڑتی اورنج ٹرین اور بیچ سڑک کیاریوں میں بکھرے بہار کے رنگ۔ یہ افسانہ ہے صوبہء پنجاب کے دارلحکومت لاہور شہر کا جہاں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے 2 دن تک ممبر سازی مہم کی قیادت کی۔
اگلے عام انتخابات سے پہلے عمران خان کی یہ ممبر سازی مہم یقینی طور پر لاہور میں انتخابی مہم کا آغاز ہے۔ جسے پاکستان مسلم لیگ نواز کا مضبوط ترین گڑھ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان کی لاہور میں کامیاب ممبر سازی مہم تحریک انصاف کو اگلے عام انتخابات میں فتح دلوا پائے گی اور کیا پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے 2 ادوار میں اہلیانِ لاہور کو فراہم کردہ آسائشیں اور سہولیات کے بعد کیا لاہوری مسلم لیگ (ن) کو رد کرکے تحریک انصاف کو 2018ء کے عام انتخابات میں ووٹ دیں گے؟
2013 کے عام انتخابات سے پہلے 30 اکتوبر 2011 کو بھی عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لاہور کے منٹو پارک میں عظیم الشان جلسہ کرکے لگایا تھا جس میں تحریک انصاف کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی۔ لیکن 2013 کے انتخابات میں ہوا کیا؟
لاہور کی 13 نشستوں میں سے تحریکِ انصاف صرف ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ عمران خان خود اپنے آبائی حلقے این اے 122 سے اسپیکر قومی اسمبلی سرادر ایاز صادق سے تقریباً 8 ہزار ووٹوں سے ہارے تھے۔
اس کے علاوہ لاہور کے قومی اسمبلی کے 13 حلقوں کے انتخابی نتائج کو دیکھا جائے تو تحریک انصاف کو 7 لاکھ 73 ہزار 7 سو 76 افراد کے ووٹ ملے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 13 امیدوار 13 لاکھ 79 ہزار 601 ووٹ لینے میں کامیاب رہے۔
لاہور کے 13 حلقوں میں سے تحریک انصاف کے امیدوار شفقت محمود این اے 126 سے صرف 7453 ووٹوں کے فرق سے جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ جبکہ حلقہ این اے 122 سے عمران خان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار ایاز صادق سے صرف 8872 ووٹوں سے ہارے۔
اسی طرح لاہور کے قومی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ہونے والے 2013ء انتخابات میں 7 حلقوں میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے ووٹوں میں فرق دو گنا سے بھی زیادہ تھا۔ جبکہ لاہور کے ایک حلقے این اے 130 میں پیپلز پارٹی کی امیدوار ثمینہ خالد گھرکی دوسرے نمبر پر اور تحریک انصاف کے امیدوار طالب حسین سندھو تیسرے نمبر پر تھے۔
لاہور کی 25 صوبائی نشستوں میں تحریک انصاف 2013ء کے انتخابات میں صرف 3 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ جن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سے جیت کا فرق سب سے زیادہ 5 ہزار ووٹوں کے لگ بھگ تھا۔
2017ء میں ہونے والی مردم شماری کے بعد نئی ابتدائی حلقہ بندیوں میں لاہور ضلع کی قومی اسمبلی کی نشستوں میں ایک اور صوبائی نشستوں میں 5 نشستوں کا اضافہ کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کو لاہور سے قومی اسمبلی کے لیے مزید ایک اور صوبائی حلقوں کے لیے مزید 5 امیدوار درکار ہوں گے جو کہ یقینی طور پر تحریکِ انصاف کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔
دوسری طرف اگلے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی صدارت میں انتخابات میں حصّہ لے گی۔
مجھ سمیت بہت سارے لاہور کے شہریوں کو شہباز شریف، نااہل ہونے والے سابق وزیراعظم نواز شریف سے زیادہ پسند ہیں۔ بلکہ شہباز شریف کو ملنے والی مسلم لیگ (ن) کی صدارت مجھ جیسے دیگر اہل لاہور کے لیے پشیمانی کا باعث ہے، کیوں کہ اگر مسلم لیگ (ن) انتخابات جیت جاتی ہے تو وزیرِ اعظم شہباز شریف ہوں گے، جس کے بعد وہ لاہور پر وہ توجہ نہیں دے پائیں گے جس کے اب یہاں کے رہنے والے عادی ہوچکے ہیں۔
لاہور کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو پاناما لیکس میں شریف خاندان کے افراد کے نام سامنے آنے پر بضد ہیں کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو ووٹ نہیں دیں گے۔ لیکن پھر وہ ووٹ کس کو دیں گے؟
مسلم لیگ (ن) کے بعد دوسرا آپشن تحریک انصاف ہے لیکن تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں کارکردگی کسی بھی صورت مسلم لیگ (ن) حکومت کی لاہور میں کارکردگی سے بہتر نہیں ہے اور اس کے بعد پیپلز پارٹی بچتی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے لاہور میں حالات یہ ہیں کہ لاہور کے قلب این اے 120 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار پانچویں نمبر پر رہتے ہوئے صرف 1414 ووٹ حاصل کرپائے اور وہ ووٹ بھی شاید فیصل میر کو مشہور اینکر و صحافی حامد میر کا بھائی ہونے کی وجہ سے ملے تھے، نا کہ لاہور میں کسی زمانے میں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن رہنے والی پیپلز پارٹی کو۔
لاہور ممبر سازی مہم میں لاہور کی ڈولپمنٹ کو کنسٹرکشن کا جنگل کہنے والے عمران خان یہ بھول گئے کہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب (مبینہ) درخت تو لگائے جاسکتے ہیں، لیکن لاہور جیسی ڈولپمنٹ تحریک انصاف کی حکومت پشاور میں 5 برسوں میں نہیں کر سکی۔ یہاں تک کہ لاہور کی میٹرو بس کو جنگلہ بس کہنے والی کے پی کے حکومت پشاور میں جنگلہ بس بنانے میں پھنس چکی ہے، جس میں آئے روز کی جانے والی تبدیلیوں کی وجہ سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہورہا ہے۔
عدالتی فیصلے اور اخلاقی تقاضے بھلے اپنی جگہ درست ہوں مگر لاہوری اس حقیقت سے باخوبی آشنا ہیں کہ نواز شریف کو کرپشن پر نہیں بلکہ سپریم کورٹ کی طرف سے اقامہ رکھنے اور بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نا لینے پر نااہل کیا گیا۔
اس کے علاوہ نیب میں زیرِ سماعت ریفرنسز میں مریم نواز اور نواز شریف کی حاضری ابھی تک تو مسلم لیگ (ن) کی لاہور میں پہلے سے مضبوط پوزیشن کو مزید مستحکم کررہی ہے اور معزز عدالت کی طرف سے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور مریم نواز کو کلثوم نواز سے ملنے جانے کے لیے اجازت نا ملنا بھی لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردی کا سبب بن رہا ہے۔
عمران خان کی طرف سے لاہور کے منٹو پارک میں 29 اپریل کو جلسے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں یقینی طور پر لوگوں کی بہت بڑی تعداد شریک ہوگی (موجودہ حالات کے مطابق 2011ء جتنی تعداد تو ممکن نہیں لگتی۔)
لاہور میں کامیاب ممبر سازی مہم کے بعد یقینی طور پر عمران خان کا جلسہ بھی کامیاب ہوگا۔ لیکن سوال پھر وہی ہے، جلسہ تو 2011ء کا بھی کامیاب ترین تھا لیکن 2013ء انتخابات کے نتائج بھی سب کے سامنے ہیں۔’
پاکستانی سیاست میں 18 برسوں سے متحرک عمران خان ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کامیاب جلسے، انتخابات میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہوسکتے۔ جیسے 2011ء کے جلسے میں اگر ایک لاکھ لوگ بھی شریک تھے تو عمران خان کو 2013ء کے انتخابی نتائج کے مطابق یہ جان لینا چاہیے کہ لاہور کے 13 حلقوں میں سے 7 حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کے 7 امیدواروں کو ملنے والے ووٹ 7 لاکھ سے زیادہ تھے۔
تحریک انصاف کی کامیاب ممبر سازی مہم کے بعد عمران خان کو چاہیے کہ وہ 2013ء کے انتخابی نتائج کو دیکھتے ہوئے اگلے انتخابات کی حکمت عملی بنائیں، کیونکہ بظاہر لاہور کے شہریوں کو مسلم لیگ (ن) سے کوئی شکایت نہیں۔ انفراسٹرکچر کی ترقی کے علاوہ بجلی کا مسئلہ بھی لاہور میں تقریباً حل ہوچکا ہے۔ ایسے میں لاہور کے لوگ کیوں تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے؟ اگر وہ کرپٹ ہیں تو تحریک انصاف میں ایسا کون سا شخص شامل نہیں جو پہلے خود خان صاحب کی تنقید کا نشانہ نہ بنتا رہا ہو؟
اس کے علاوہ عمران خان کو چاہیے کہ وہ لاہور کے لوگوں کے سامنے مسلم لیگ (ن) حکومت کی برائیاں گنوانے کی بجائے اپنی کے پی کے حکومت اور اپنے منشور پر زیادہ توجہ دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کو چاہیے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی انتخابی سائنس کو سمجھیں کیونکہ انتخابات میں صرف جیتنا ہی نہیں ہوتا بلکہ حریف امیدوار کو ہرانا بھی ہوتا ہے۔