جولائی 2017 میں سپریم کورٹ کی طرف سے نا اہل ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے “مجھے کیوں نکالا” کی گردان پڑھنا شروع کی۔
اس بیانیئے کے بعد اداروں سے ٹکراؤ اور عدلیہ مخالف بیانیہ اپنانے کے بعد تاحیات نا اہل ہونے والے نا اہل وزیراعظم نے “ووٹ کو عزت دو” کا شوشہ چھوڑ دیا۔ جس کے جواب میں ووٹ دینے والے “ووٹرز کو عزت دو” کا کاؤنٹر بیانیہ میدان میں آگیا۔
بیانیئے اور کاؤنٹر بیانیئے کے بعد میرا ایک معصومانہ سا سوال ہے کہ کیا “ووٹ دینے والا ووٹر عزت کا مستحق ہے”؟
یہ حقیقت ہے کہ جمہوری ملکوں میں جمہور یعنی عوام ہی طاقت کا زرچشمہ سمجھے جاتے ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہوری ملکوں میں عوامی ووٹوں سے منتخب ہونیوالے نمائندے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں گنگا ہی الٹی بہتی ہے۔
پاکستان میں ویسے تو جمہوریت کا پودا ماضی میں تناور درخت بننے سے پہلے ہی کچل دیا جاتا تھا۔ جسمیں قصور عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے جمہوری نمائندگان کا بھی ہوتا تھا۔ لیکن اب جبکہ اکیسویں صدی میں کچلنے والے اپنے بوٹوں پر کنٹرولکیے بیٹھے ہیں۔ تو عوامی نمائندگان بوٹوں والوں کو ایسی چٹکیاں کاٹ رہے ہیں کہ وہ جمہوریت کا شب خون ماریں۔ لیکن سلام ایسی غیر جمہوری طاقتوں کو جنھوں نے عوامی منتخب نمائندوں کو منتخب نمائندوں کے سامنے ہی کھلا چھوڑ دیا ہے۔ جو آپس میں ہی دست و گریبان ہوکر ایک دوسرے کے دشمن بنے بیٹھے ہیں۔ خیر چھوڑیئے، بات ہورہی تھی ووٹ کو عزت دینے کی۔
اگر پاکستانی کی تاریخ دیکھی جائے۔ بلکہ ماضی قریب یعنی مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات کو ہی دیکھا جائے۔ جسمیں بذریعہ ہارس ٹریڈنگ خریدے گئے ووٹوں کے ذریعے پہلے چیئرمین سینیٹ اور پھر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے۔ کیا خرید گئے ووٹوں سے منتخب ہونے والے سینیٹرز عزت کے لائق ہیں؟ جن سینیٹرز نے ان بکاؤ عوامی نمائندگان کو خریدا، کیا وہ جمہوری نمائندگان اس قابل ہیں کہ ان کے ووٹ کی عزت کی جائے۔ جو کہ کسی بھی قانون سازی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔ ذرا سوچیئے۔ خریدے گئے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نومنتخب سینیٹرز کسی بھی قانون کے حق میں یا مخالفت میں ان کے قیمتی ووٹ کی کیا اہمیت ہوگی۔
پاکستانی بد قسمت جمہوریت میں ووٹوں اورپارلیمانی ووٹرز کی خریدوفروخت کا ایک ایسا سلسلہ ہے۔ جو کہ دہائیوں سے جاری ہے۔ جسمیں ذاتی مفادات کی خاطر بکنے والے ووٹرز، پارلیمانی منڈیوں میں قابل بکاؤ اراکین اسمبلیوں کو بذریعہ ووٹ منتخب کرتے ہیں۔ جو کہ بعد ازاں بذریعہ خفیہ رائے شماری ہونے والے سینیٹ انتخابات کی منڈی میں اپنے ووٹ بیچتے ہیں۔ جو کہ ہر تین سال بعد لگتی ہے۔
اگر ان منتخب شدہ اراکین اسمبلی کی خریدو فروخت کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کو عوام سے ملنے والے ووٹوں میں اکثریت ذاتی مفادات حاصل کرنے کی خاطر انھیں ووٹ دینے والے کی ہوتی ہے۔ جن میں سے کوئی اپنے بیٹے کو سرکاری نوکری حاصل کرنے کی خاطر، کوئی عدالتی کارروائیوں سے چھٹکارے کی خاطر اور کوئی زمینی معاملات میں پٹواریوں اور تحصیل داروں سے ناجائز فائدے حاصل کرنے کے لئے ووٹ دیتے ہیں۔ جبکہ ووٹرز کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی ذات اور مسلک کے امیدوار کو اقتدار میں دیکھنے کے لئے ووٹ دیتی ہے۔
یہاں تک نہیں بلکہ اب تو الیکشن والے دن گھر سے پولنگ سٹیشن تک ایئر کنڈیشنڈ گاڑی میں رسائی اور چکن بریانی یا قیمے والے نان کی خاطر بھی لوگ ووٹ مزکورہ امیدوار کو ڈال دیتے ہیں۔ جو الیکشن والے دن پولنگ سٹیشن پر لیجانے اور لانے کے لئے انتظامات کرتا ہے۔
اب خود سوچیں۔ اگر اپنا ووٹ جن مرضی مجبوریوں کی وجہ سے بھی کوئی ووٹر کسی خاص جماعت یا امیدوار کو دیتا ہے۔ کیا وہ ووٹر یا اس کا ووٹ عزت کا مستحق ہے؟
کیا کوئی ووٹر عزت کا مستحق ہوسکتاہے۔ جسے حکمرانوں نے ہر پانچ سال بعد صرف اور صرف ووٹ ڈالنے کے لئے رکھا ہو اور وہ ووٹر ہر پانچ سالوں بعد نئے مطالبات اور ضروریات کو پورا کروانے کے بدلے اپنا ووٹ دے۔
کیا کوئی ووٹر اتنا بے ہس ہوسکتا ہے کہ جسے یہ معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کا صحیح استعمال اس کی جمہوری، اخلاقی اور دنیاوی ذمہ داری ہے۔ جس کا استعمال وہ اپنی ضروریات کے مطابق نہیں بلکہ اپنی عقل و دانش کی روشنی میں اپنے ملک کی بہتری کے لئے کرے۔ وہ ووٹر عزت کا مستحق ہوسکتا ہے؟
سب سے بڑھ کر جنھیں تین بار وزیراعظم رہنے کے بعد  ووٹ کی عزت یاد آئی ہے۔ جو بے شک اقامہ رکھنے اور بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نا لینے پر نا اہل ہوئے ہیں۔ کیا انھوں نے اپنے ووٹرز کو اس قابل سمجھا کہ پینامہ لیکس میں ان پر جو الزامات لگے۔ وہ ان کے ثبوت عدالت کے سامنے نا سہی، لیکن اپنے ووٹر کے ساتھ ہی شیئر کرلیں۔
آج ان حکمرانوں کو جنھیں ووٹ کی عزت کا خیال آیا ہے۔ وہ انھیں بنا ووٹ کے اقتدار میں آنے والوں کی وجہ سے آیا ہے۔ جن کے خاکی ٹرکوں پر بیٹھ کر اور جن کی جمع پونجی سے بذریعہ آئی جے آئی یہ حکمران ایوانوں تک پہنچے اور اب جب ان ڈنڈے والوں نے ان کی اوقات یاد دلوائی۔ تو انھیں ان کمی کمین ووٹرز کی عزت یاد آگئی۔ جنھیں یہ حکمران صرف اقتدار میں آنے کے لئے بطور ووٹرز استعمال کرتے ہیں اور یہ ووٹرز اپنے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر انھیں ووٹ دیتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جمہوریت میں ووٹ کی عزت ہر جمہوری و غیر جمہوری اداروں پر لازم ہونی چاہیے۔ لیکن اس کے لئے ووٹر پر بھی لازم ہے کہ وہ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ اپنی اور اپنے ووٹ کی عزت کروائے۔ کیونکہ عزت کروانے سے ملتی ہے۔ کسی کے مانگنے سے نہیں۔