جنرل مشرف کے مارشل لا کے بعد 2002 میں سب کو پتہ تھا کہ نومولود جماعت پاکستان مسلم لیگ قائداعظم عام انتخابات کے بعد حکومت بنائے گی۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی 2007 میں شہادت کے بعد 2008 انتخابات سے پہلے بھی سب کو اندازہ تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔
5 سالوں بعد 2013 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت اور تبدیلی کے نعرے کے باوجود حقیقت پسند پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت دیکھ رہے تھے۔
اور اب 5 سالہ جمہوری دور مکمل ہونے کے بعد پھر سے عام انتخابات ہونے کو ہیں۔
اگلے انتخابات سے پہلے جنوبی پنجاب کے سیاسی کبوتروں کی اڈہ تبدیلی اب عندیہ دے رہی ہے کہ اس بار ضروریات، خواہشات اور ماضی قریب کے تلخ تجربے کی وجہ سے بذریعہ ٹیسٹ ٹیوب انتخابی عمل اگلے وزیراعظم کو شیروانی پہنائی جائے گی۔ جو کہ 1996 سے سیاسی میدان میں سرگرم ہیں۔
نواز لیگ کی 5 سالہ حکومت کے آخر میں 2013 کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے یا کیا جارہا ہے۔ وہ ثابت کرتا ہے کہ ان 5 سالوں میں اس کی کارکردگی جتنی مرضی اچھی ہو۔ اس کی حکومت دوبارہ بنے والی نہیں۔ چاہے وہ اپنا صدر تبدیل کرکے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو صدر بنالیں یا پھر موسمی باغی چوہدری ںثار جتنے مرضی چاہیں اپنے عسکری تعلقات استعمال کرلیں۔ نواز لیگ کی دال اب گلنے والی نہیں۔
انتخابات سے پہلے بنے والے ماحول میں نواز لیگ اور اس کے رہنماؤں ک خلاف چلنے والے مقدموں کو ایسی سست روّی سے چلایا جارہا ہے کہ ان فیصلوں کے نتائج کو انتخابات سے پہلے مناسب وقت پر استعمال کیا جاسکے۔ جس سے ایسا ماحول بن جائے کہ نواز لیگ کی engineered شکست، نواز لیگ کی کرپشن اور 5 سالوں میں کارکردگی کا نتیجہ ثابت ہو اور انتخابات میں تینوں بڑی پارٹیوں کی 5 سالوں میں غیر تسلی بخش کارکردگی اگلے انتخابات میں مخلوط حکومت کا سبب بنے۔ جسمیں اُس جماعت کی اکثریت ہوگی جسے خیبر پختونخوا میں تو موقع ملا۔ لیکن کبھی وفاق میں آزمایا نہیں گیا۔
5 سالوں تک اقتدار میں رہنے والی نواز لیگ کے تجربے کے بعد یقینی طور پر ٹیسٹ ٹیوب وزیراعظم کی جماعت کو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت نہیں دی جائے گی۔ تاکہ وزیراعظم کی شیروانی پہلی بار پہننے والا وزیراعظم نواز شریف کی طرح منہ اٹھا کر مودی کی حلف برداری تقریب میں نا پہنچ جائے۔ اس کے علاوہ نئی برسراقتدار الائنس کی پارلیمنٹ میں اکثریت برقرار رکھنے کے لئے ایسی سیاسی جماعت کی سپورٹ لازمی ہوگی۔ جو کہ پھر سے ایک بار سندھ میں اقتدار حاصل کرنے میں تو کامیاب ہوگی۔ لیکن وفاق میں ٹیسٹ ٹیوب وزیراعظم کی جماعت سے کم نشستیں ہونے کی وجہ سے اس جماعت کو مجبوراً نئی جماعت کو سپورٹ کرنا پڑے گا۔
اس کے علاوہ ٹیسٹ ٹیوب وزیراعظم اور اس کی جماعت کے ساتھ پیپلز پارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتوں کی مخلوط حکومت موجودہ حالات کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ پیپلز پارٹی دور میں ہونے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم میں پھر سے ایک بار ترمیم کرکے بذریعہ ٹیسٹ ٹیوب عمل وزیراعظم لانے والے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرسکیں۔ جن کا عندیہ وہ باجوہ ڈاکٹرائن میں دے چکے ہیں۔
ممکن ہے کہ پنجاب میں نواز لیگ کی مقبولیت اور نومنتخب صدر نواز لیگ شہباز شریف اور چوہدری نثار کی کوششوں سے نواز لیگ پنجاب کی حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ لیکن نواز لیگ یقینی طور پر وفاق میں حکومت حاصل کرنے سے قاصر رہی گی۔
ایسی صورتحال میں دیکھنا یہ ہوگا کہ نا اہل ہونے والے سابق وزیراعظم اور ان کی بیٹی مریم نواز کو کیا سزا ہوتی ہے اور کیا شہباز شریف اور چوہدری نثار اپنے سابق لیڈر کی خاطر پنجاب حکومت پر اکتفا کرتے ہوئے ان دونوں کو سزا سے بچا کر بیرون ملک بھجوانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سابق وزیراعظم پچھلی غلطی کو نا دہرائیں اور سعودیہ یا لندن کی بجائے راولپنڈی کے اڈیالہ جیل کو اپنا مسکن بنانا چاہیں۔ ویسے بھی اطلاعات کے مطابق اڈیالہ جیل کی تزین و آرائش کا کام کسی خصوصی مہمان کی آمد کے لئے آخری مراحل میں ہے۔