عمران خان کی جس مبینہ شادی کا اعلان 2018 کے پہلے ہفتے میں ایک خبر میں کردیا گیا تھا۔ عمران خان نے اسی خبر کو حقیقت میں بدلتے ہوئے اسی پنکی پیرنی سے شادی کر لی۔
فلم اور ڈرامہ کی انڈسٹری میں عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے ناولز، کہانیوں اور افسانوں کو حقیقی شکل میں دکھانے کے لئے ڈرامے یا فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ مگر عمران خان نے بریکنگ نیوز کو حقیقت میں بدلتے ہوئے اپنی تیسری شادی کا ڈرامہ رچایا۔
عمران خان نے خبر کے عین مطابق نکاح خواں اور گواہان بھی وہی چنے۔ جن کا ذکر دی نیوز کے صحافی عمر چیمہ کی خبر میں تھا۔ اس کے علاوہ عمران خان نے تیسری شادی کے لئے پاکپتن کی اسی پیرنی کا انتخاب کیا۔ جس کا اقرار پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ریلیز کردہ تصاویر میں کیا گیا۔
عمران خان کا شادی کے لئے پہلے برطانوی دوشیزہ کا چناؤ، پھر برطانوی طلاق یافتہ خاتون سے نکاح اور اب پاکپتن کی پنکی پیرنی سے شادی۔ ظاہر کرتی ہے کہ عمران خان کا اپنی عمر کی چھٹی دہائی کے آخری سالوں میں رجحان مذہبی ہورہا ہے۔ اسی رجحان کی پیروی میں عمران خان نے پہلے ہاتھ میں مقدس پتھر والی انگوٹھی پہنی اور اب روحانیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے ایک پیرنی سے شادی کی ہے۔ جو کہ پہلے سے شادی شدہ ہونے کے علاوہ نانی دادی بھی ہیں۔
تیسری شادی کے لئے عمران خان کی طرف سے دوسری شادی کرنے والی پیرنی بشری مانیکا کا چناؤ، ممکن ہے کہ بریلوی مسلک کی اگلے عام انتخابات میں سپورٹ حاصل کرنے کے لئے بھی کیا گیا ہو۔ جس کی ہمارے ملک میں اکثریت ہے اور جو مسلک راولپنڈی اور فیض آباد کو ملانے والے فیض آباد پر 21 دنوں تک دھرنا دیے بیٹھا رہا۔
فیض آباد دھرنے کے بعد ملک میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں دیکھا گیا ہے کہ مولانا خادم حسین رضوی کی سربراہی میں رجسٹرڈ سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے توقع سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں آج بھی مذہبی ووٹ کا استحصال ہورہا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے آج بھی کئی علاقے ایسے ہیں۔ جہاں ووٹرز نظرئیے، منشور اور کارکردگی پر نہیں بلکہ مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے والوں کو اقتدار کا حقدار سمجھتے ہیں۔
ہر گزرتے دن اور خاص کر 2013 کے عام انتخابات کے بعد سیاسی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی سیاسی جماعتیں ایک قدم آگے جا کر مسلک کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہیں۔ جو کہ پہلے سے انتہا پسند معاشرے کا مزید انتہا پسند معاشرے کی طرف بڑھتا ایک اور قدم ہے۔
حالیہ ضمنی انتخابات میں اہلیحدیث مسلک کی ترجمانی کرنے والی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ، مسالک کی بنیاد پر ووٹ مانگتی سیاسی جماعت کی ایک اور مثال ہے۔ جو کہ ابھی تک الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نا ہونے کے باوجود آزاد امیدوار کی سپورٹ کرتے ہوئے ضمنی انتخابات میں حصّہ لیتی ہے۔ جس کے بینرز اور پوسٹرز حافظ سعید کی تصاویر کے ساتھ انتخابی مراکز اور پولنگ آفیسز میں آویزاں کیے جاتے ہیں اور حیران کن طور پر اہل حدیث مسلک والی سیاسی جماعت کا آزاد امیدوار قابل ذکر ووٹ لینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
اسی اثنا میں لگتا ہے کہ عمران خان نے بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والی پاکپتن کی مشہور پنکی پیرنی سے اس لئے شادی کی ہے۔ تاکہ اگلے انتخابات میں انتخابی مہم کے دوران عمران خان کی نئی اہلیہ جلسوں اور کارنر میٹنگز میں بریلوی مسلک کے ووٹرز کو عمران خان کو ووٹ دینے کے لئے قائل کرسکیں۔
لیکن عمران خان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگلے انتخابات میں مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے علاوہ تحریک انصاف کا مقابلہ بریلوی مسلک کی ہی جماعت تحریک لبیک پاکستان سے بھی ہوگا۔ جس کے ووٹرز (مریدین) کے لئے علامہ خادم حسین رضوی اور پاکپتن کی پنکی پیرنی میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہوگا۔
اگر دیکھا جائے تو عمران خان کے ووٹرز شہری علاقوں کے لبرلز (قدرے) ہیں۔ یہ تو ممکن ہے کہ وہ عمران خان کے اس روحانی فیصلے کو ناپسند کرتے ہوئے اپنے ووٹ کا حقدار تحریک انصاف کو نا سمجھیں۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ پنکی پیرنی سے شادی کی وجہ سے کوئی شہری لبرل اپنی انتخابی پسند کو تبدیل کر کے عمران خان کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرلے۔
اگلے انتخابات کا فیصلہ جو بھی آئے۔ عمران خان وزیراعظم بنیں یا نا بنیں۔ یہ تو طے ہے کہ انتخابی مہم میں عمران خان کا ساتھ ایک با پردہ پیرنی دیں گی۔ جو کہ پردے سے متعلق سخت گیر مذہبی رجحانات رکھنے والی خواتین کو ضرور متاثر کریں گی۔
یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کی اکثریت ہے۔ جو کہ پیروں فقیروں کو مانتی ہے۔ مزاروں پر چڑھاوے چڑھاتی ہے۔ گیارہویں شریف اور جمعراتوں کو نذرانے دیتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس کے چانسز نا ہونے کے برابر ہیں کہ پنکی پیرنی سے شادی کی وجہ سے عمران خان قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرکے وزیر اعظم بن جائیں گے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اگر پنکی پیرنی کی قسمت میں خاتونِ اوّل بننا ہوا تو فرشتے تحریک انصاف کو ووٹ ڈال دیں۔