قصور کی 7 سالہ زینب کے قاتل اور درندگی کرنے والے 24 سالہ عمران علی کی 14 دنوں بعد گرفتاری وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے جے آئی ٹی میں شامل سیکیورٹی اہلکاروں کے لئے تالیاں تو بجوائیں۔ لیکن پولیس، دیگر سیکیورٹی اہلکاروں اور شہباز شریف کو شرم نہیں آئی کہ اگر وہ 2015 میں سامنے والے کیسز کے بعد کارروائی کرلیتے۔ تو زینب سمیت کئی معصوم بچیاں آج زندہ ہوتیں۔
زینب کے قاتل کو گرفتار کرنے کے بعد کی جانے والی پریس کانفرنس میں وزیراعلی کے ساتھ بیٹھے وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کو شرم نہیں آئی۔ جو پریس کانفرنس سے پہلے زینب کے والد کو سمجھاتے رہے کہ کیا بولنا ہے اور کیا نہیں۔ اگر ان میں ذرا سی بھی غیرت اور انسانیت ہوتی۔ توپنجاب گورئمنٹ جن ایجنسیوں اور فرانزک لیب کے استعمال سے زینب کے قاتل کو پکڑنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ انہی ایجنسیوں اور فرانزک لیب کو استعمال کرتے ہوئے 7 جنوری کو 7 سالہ عائشہ آصف کی گمشدگی پر متحرک ہوتے۔ جس کی لاش اس کے اپنے سکول کے سامنے زیر تعمیر گھر سے ملی۔
انگلیوں پر نچانے والے وزیراعلی پنجاب جنھوں نے زینب کی موت کے بعد پولیس افسران اور ایجنسیز کی نیندیں حرام کردیں۔ اگر وزیراعلی پنجاب 24 فروری 2017 کو غائب ہونے والی ایمان فاطمہ کی گمشدگی پر جاگ جاتے۔ تو ایمان کے والدین کو نانی کے گھر گئی 7 سالہ ایمان کی لاش زیادتی کے بعد ایک کلو میٹر دور زیر تعمیر گھر سے نا ملتی۔
زینب کے قاتل عمران علی کی گرفتاری کے بعد سابق نا اہل وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے اپنے بھائی اور وزیر اعلی پنجاب کو اس عظیم کارنامے پر شاباش دی گئی۔ لیکن سابق وزیر اعظم اگر 11 اپریل 2017 کو قصور کی نور فاطمہ کی گمشدگی پر اپنے بھائی کو چوکنا کردیتے۔ تو نور فاطمہ کے والد مصطفی کو اپنی لاڈلی بیٹی کی لاش 3 کلومیٹر دور حاجی پارک سے ناملتی۔
قصور کی رنگین آنکھوں والی زینب کے باپ کا اُچک کر مائیک بند کرنے والے خادم اعلی کو اُس وقت اچھل کود کرنا یاد کیوں نا آیا۔ جب قصور کی ہی 7 سالہ لائبہ سلیم قرآن پڑھنے جاتے وقت درندے کے ہاتھوں غائب کر لی گئی۔ جس کی لاش لائبہ کے والدین کو قریبی ہسپتال سے ملی۔
زینب کے قاتل کو گرفتار کر نے کے بعد کی جانے والی پریس کانفرنس میں موجود آئی جی پولیس، پنجاب اور دیگر سیکیورٹی اہلکار وزیراعلی کی شاباش لینے کے لئے تو کھڑے ہوئے۔ لیکن تب کیوں نہیں کھڑے ہوئے جب قصور کی ایک اور بیٹی کے ساتھ عمران علی نے درندگی کی۔ جو آج بھی لاہور کے ہسپتال میں ایسی حالت میں زیر علاج ہے کہ نا تو وہ اپنے باپ کو پہچانتی ہے اور نا ہی اپنی ماں کو۔ کاش کو کہ وہ اس شو باز وزیراعلی پنجاب اور سیکیورٹی اداروں کو ہی پہچان جائے۔ جنھیں ہم اپنی بچیوں کا محافط سمجھتے ہیں۔
ماڈل ٹاؤن لاہور میں کی جانے والی پریس کانفرنس میں اُس زینب کے قاتل کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا گیا۔ جس نے زینب کو 4 جنوری کو اغوا کیا اور 5 دنوں بعد زینب کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملی۔
کاش کے وزیر اعلی قاتل کو پکڑنے والے پولیس افسروں اور جے آئی ٹی میں شامل افسران کی حوصلہ افزائی کر نے کے علاوہ قریبی تھانوں میں تعینات پولیس اہلکاروں کی سرزنش بھی کرتے۔ جو پانچ دنوں تک سی سی ٹی وی فوٹیج کی موجودگی کے باوجود قاتل کو پکڑنے میں ناکام رہے۔ کاش کے وزیر اعلی افسروں کو شاہ باش دینے کے علاوہ 5 دنوں تک قصور کے ناکام رہنے والے پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم بھی دیتے۔ جنھوں نے زینب کے رشتے داروں سمیت دیگر غائب ہونے والی بچیوں کے والدین کی درخواستوں پر ایکشن نہیں لیا۔
کاش کے وزیر اعلی پنجاب قصور میں غائب ہونے والی پہلی بچی کی لاش ملنے پر ایکشن میں آجاتے۔ تو عمرے پر گئے والدین کی زینب آج اللہ کے گھر سے آئے آبِ زم زم کو پی کر جائے نماز پر بیٹھی اپنے والدین اور اس ملک کے حق میں دعائیں کررہی ہوتی۔