قصور کی زینب کے ساتھ ہونے والی درندگی اور پھر اس کے قتل کی خبریں میڈیا پر آنے کے بعد گھر میں ایسا ماحول تھا۔ جیسے کوئی مر گیا ہو۔
7 سالہ زینب کی سبز آنکھوں والی تصویر دیکھ کر مجھ سمیت سب گھر والوں کے سامنے میری 5 سالہ بیٹی عیشال کی شکل ذہن میں آجاتی تھی۔
ایک دن گزرا، پھر دوسرا اور پھر تیسرا اور اب ایک ہفتہ۔
زینب کے ساتھ ہونے والی درندگی سے بات شروع ہوئی اور نصاب میں سیکس ایجوکیشن کی شمولیت کے علاوہ والدین کو بھی مورد الزام ٹھرایا گیا۔ جو کہ کسی حد تک جائز ہے۔
میڈیا پر بیٹھے تجزیہ کاروں نے سیکس ایجوکیشن کی نصاب میں شمولیت کے علاوہ والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو گُڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ اور جنسی ہراسیت کے بارے میں بتائیں۔
لیکن کسی نے یہ سوچا کہ 5 سالہ یا 6 سالہ یا پھر 7 سالہ بچے کو یہ کیسے بتائیں کہ بیٹا تم ایسے سماج میں رہتے ہو۔ جہاں جنسی حوّس کا نشانہ بنانے والے آوارہ کتوں کی طرح منڈلا رہے ہیں۔ جو موقع ملتے ہی معصوم شکار پر جھپٹ پڑتے ہیں۔
کوئی ماں یا باپ اپنے بچے کو کیسے بتائے کہ چونکہ ان درندوں نے 7 سالہ زینب کے ساتھ درندگی کر کے اسے مار دیا۔ ہم نہیں چاہتے کہ آپ کو بھی کوئی درندگی کا نشانہ بنائے۔ لہزا آپ کے ساتھ جب بھی کوئی ایسا کرنے کی کوشیش کرے۔ تو ہمیں بتا دینا۔
اپنی بیٹی سے بات کرنے سے پہلے میں نے اپنی بیوی سے بات کرنا مناسب سمجھا اور کہا ہمیں اپنی بیٹی کو اس بارے میں بتانا چاہیئے۔ جس کے جواب میں پہلے تو میری اعلی تعلیم یافتہ باشعور سوفٹ انجینئر بیوی گھبرا گئی اور تر آنکھوں کے ساتھ کہنے لگی۔
ہم کیسے اتنی چھوٹی بیٹی کو ان درندوں سے بچائیں گے؟۔ یہ میڈیا پر بیٹھے جاہل کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں کو انجان لوگوں اور خاص کر قریبی رشتے داروں سے محفوظ  رکھنا چاہیئے؟۔ ہر وقت ہم اپنے بچوں کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
میرے سمجھانے اورمیڈیا کی وجہ سے بنے ڈراؤنے ماحول کی وجہ سے میں نے اپنی بیٹی کو سمجھانے کی ذمہ داری لی۔ جس کے بعد میں نے اپنی بیٹی کو آواز دے کر بلایا۔
بیٹی کو ہاتھ میں اپنی گڑیا تھامے آتے دیکھا تو پہلے تو میری آنکھوں کے سامنے پھر سے قصور کی زینب آئی۔ اپنے اعصاب پر قابو پا کر میں نے بیٹی کو پیار کیا اور اسے گُڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ سے آگاہی کیلئے تمہید باندھنا شروع کی۔
لڑکیوں کے مشنری سکول جاتے ہوئے تیسرا سال ہونے کی وجہ سے میں نے اپنی بیٹی سے پہلے گُڈ اور پھر بیڈ کے مطلب پوچھے۔ جو کہ اسے آتے تھے۔
پھر ٹچ کے بارے میں دریافت کیا۔ جس کا جواب اس نے اپنا ہاتھ اپنی چھاتی پر تھپکاتے ہوئے دیا۔
ابھی آگے بتانا ہی تھا تو میری آواز بھر آئی اور میں سوچنے لگا کہ میں اپنی معصوم بیٹی کو کیا سکھا رہا ہوں۔ اسے بتا رہا ہوں ک بیٹا تمھارا جسم بہت نازک ہیں۔ جس کو ٹچ کرکے اپنی جنسی حوّس کی تسکین کیلئے کوئی بھی بلکہ کوئی انتہائی قریبی عزیز بھی کوشیش کر سکتا ہے۔
دوسرے الفاظ میں میں اپنی بیٹی کو بتا رہا تھا کہ بیٹا آپ کے ارد گرد درندے ہی درندے ہیں۔ ان سے بچنے کیلئے یہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کو بھی خدا نا خواستہ کوئی درندگی کا نشانہ بنائے اور ہم بھی زینب کے والدین کی طرح روتے پٹتے رہ جائیں۔
بار حال میں نے ہمت پکڑی اور اسے بتانا شروع کیا کہ بیٹا اگر آپ کی چھاتی پر کوئی ہاتھ لگائے یا پھر آپ کی ٹانگوں کے درمیان چھیڑے یا پھر آپ کی پیٹھ پر تھپتھپائے۔ تو فوراً اپنی امی یا بابا کو بتانا اور اگر ہم دونوں ہی نا ہوں تو دادو کو یا پھر اپنی نانی کے گھر ہونے کی صورت میں اپنے نانا یا نانی کو بتانا۔
ابھی اتنا بتایا ہی تھا تو میری بیٹی نے پوچھا، بابا۔۔۔ یہاں ٹچ کرنے سے کیا ہوتا ہے اور کوئی مجھے یہاں ٹچ کیوں کریگا؟۔
پہلے سے ہی سہما اور ڈرا ہوا ہونے کی وجہ سے اپنی بیٹی کے سوال کا کوئی جواب مجھے نا آیا اور میں نے کہہ دیا کہ بیٹا، آ پ کو جو بابا کہہ رہے ہیں۔ بس وہ کرو۔
میرا سنجیدہ جواب سُن کر میری بیٹی ایک دم سہم گئی۔ جس کے بعد میں نے اسے پیار سے سمجھایا کہ بیٹا آپ تو اچھے بچے ہو۔ بابا کی ہر بات مانتے ہو۔
جواب میں میری بیٹی نے کہا، جی بابا۔ لیکن بابا مجھے تو چاچو اور مامو بھی جب اٹھاتے ہیں تو وہ میری پیٹھ پر ہاتھ لگاتے ہیں۔ تو میں انھیں کیا کہوں؟۔
یہ سُن کر میں سوچنے لگا کہ کیا میں اپنی بیٹی سے کہوں کہ بیٹا دونوں کو منع کر دینا کہ آپ کو نا اٹھائیں۔ لیکن پھر دل میں آیا کہ سننے میں تو یہی آیا ہے کہ بچوں کو اور خاص کر لڑکیوں کو قریبی رشتے داروں سے ہی خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن میں کوئی جواب بھی نا دے سکا۔
میری بیٹی کا تجسس بھرا تیسرا سوال تھا کہ بابا جب ہم سارے گاڑی پر کہیں جاتے ہیں تو میں تو چاچو کی گود میں بیٹھتی ہوں اور اگر میں چاچو کی گود میں نہیں بیٹھوں گی۔ تو کہاں بیٹھوں گی؟۔
یہ سوال سُن کر مجھے اپنے صحافی ہونے پر غصّہ آنے لگا اور سوچنے لگا کہ ایسے سوال کرنے کے گندے جراثیم اس میں میرے سے ہی منتقل ہوئے ہوں گے۔
بار حال میں نے اسے یہ کہہ کر سمجھا دیا کہ بیٹا تب بابا اور ماما اور دادو بھی آپ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ تو اس وقت کچھ نہیں ہوتا۔
اگلا سوال تھا کہ بابا، سکول میں نا تو آپ ہوں گے اور نا ہی ماما اور نا نانا، نانوں یا دادو۔ تو پھر۔ وہاں تو سیکیورٹی گارڈز بھی ہوتے ہیں اور سویپرز بھی۔
اس سوال کے جواب میں تو میں نے کہہ دیا کہ بیٹا اپنی ٹیچر کو بتانا۔ لیکن بعد میں میں اس شش و پنج میں مبتلا ہو گیا کہ میں اپنی بیٹی کو کس کس سے محفوظ رکھ سکتا ہوں؟۔
میں نے اپنی بیٹی کو گُڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کا بتایا ہے۔ لیکن یہ کب تک میرے اس لیکچر کو یاد رکھے گی اور میں کب تک اپنی بیٹی کو درندوں کی حوّس سے بچاؤ سے متعلق بتاتا رہوں گا۔ ابھی تو زینب کا کیس تازہ ہے اور میں اور میری بیوی جزباتی ہوتے ہوئے اپنی بیٹی کو سمجھا رہے ہیں۔ لیکن بعد ازاں ہم بھی اپنے کاموں میں مصروف ہو جائیں گے اور پھر وہی بیٹی کا سکول، ہوم ورک، چھٹیاں اور عمران خان کی شادی کا رونا شروع ہوجائیگا۔ جس کے بعد ہم پھر سے کسی اور بد قسمت بیٹی کے ساتھ درندگی ہونے کا انتظار کریں گے اور پھر سے اپنے بچوں کو گُڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کا لیکچر دینا شروع کردیں گے۔