فیض آباد دھرنا ختم ہونے کے بعد ملک میں پکنے والی باسی سیاسی کڑی ایک بار پھر سے اُبل اُبل کر باہر آتی دِکھ رہی ہے۔ جس کی وجہ مذہبی پیشوا ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کی سرپرستی میں بنتا حکومت مخالف اتحاد ہے۔ جوکہ ماڈل ٹاؤن میں ہلاک ہونے والے 14 افراد کے لئے تحریک قصاص چلانا چاہتے ہے۔ مذہبی پیشوا علامہ خادم حسین رضوی کی سربراہی میں ہونیوالا 21 روزہ فیض آباد دھرنا بھی حکومت مخالف تھا۔ جوکہ تحریک لبیک نے دیا تھا۔
ان دونوں مذہبی پیشواؤں کی قیادت میں دیے جانے والی ان تحریکوں (ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری نے اگر تحریک چلائی تو) میں مماثلت یہ ہے کہ دونوں مذہبی پیشوا اپنے مریدین کے بریگیڈ کو بطور مظاہرین استعمال کرتے ہیں۔ جن کی خدمات سیاسی جماعتوں کو آسان شرائط پورا کرنے پر فراہم کی جاتی ہیں۔ سردی ہو یا گرمی۔ دن ہو یا رات، مظاہرین کا یہ بریگیڈ حکومت مخالف احتجاج کو اپنے عقیدے کا حصّہ سمجھتے ہیں اور ان مذہبی پیشواؤں کو دور حاضر کا خلیفہ۔ جن کی اطاعت کرنا ان پرفرض ہے۔
انقلاب کا سوٹ کیس اُٹھائے پاکستان کادورہ کرنیوالے علامہ صاحب میں ایسی روحانی طاقت ہے کہ کیا آصف زرداری اور کیا عمران خان۔ کیا شیخ رشید اورکیا چوہدری شجاعت۔ سب کے سب علامہ صاحب کی ایک ہچکی پر جوق در جوق چلے آتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری اور علامہ خادم حسین رضوی کے پاس ایسی کونسی گیدڑسنگھی ہے۔ جس کی وجہ سے ہزاروں مریدین ان کے احکامات کی پیروی میں ڈٹ جاتے ہیں اور مفاد پرست سیاسی لومڑیاں (سیاسی لیڈر) ان کے سیاسی رِیوڑ کا حصّہ بننا چاہتی ہیں؟
یہ جانتے ہوئے کہ علامہ طاہر القادری کی سربراہی میں دوبار دیا جانے والا دھرنا مطالبات پورے کروائے بغیر( خفیہ مطالبات پورے ہونے پر) اسلام آباد سے تتّر بتّر ہو گیا تھا۔ اُتاولی سیاسی لومڑیاں علامہ صاحب کے ریوڑ میں پھر بھی شریک ہونا چاہتی ہیں۔
اس بار چونکہ 14 معصوم انسانی جانوں کا معاملہ ہے اور جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ پبلک ہوچکی ہے۔ اس لئے ترسی ہوئی اپوزیشن جماعتیں سمجھتی ہیں کہ علامہ صاحب کے انتقامی ریوڑ کا حصّہ بنا حکومت گرانے کے ادھورے خواب کو پورا کرسکتا ہے۔
علامہ صاحب کی سربراہی میں بنتے سیاسی ریوڑ کی خاص بات پاکستان پیپلز پارٹی کی اس میں شمولیت ہے۔ جو ماضی میں تحریک انصاف کی حکومت مخالف کسی بھی سیاسی تحریک کا حصّہ نہیں بنی۔
علامہ صاحب کی روحانی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت مخالف اس ریوڑ میں عمران خان علامہ صاحب کی خاطر پیپلز پارٹی کے ساتھ بیٹھنے کے لئے راضی ہیں اور پیپلز پارٹی علامہ صاحب کی سربراہی میں تشکیل پاتے سیاسی ریوڑ میں اُس عمران خان کی اتحادی ہوگی۔ جس نے دارالعلوم حقانیہ کے مولانا سمیع الحق کے ساتھ انتخابی اتحاد کر رکھا ہے۔ جن کے مدرسے سے محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کرنے والے دہشتگردوں کا تعلق تھا۔
علامہ صاحب کے یکجا کردہ ریوڑ کی خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ ایسے وقت میں اکٹھا ہورہا ہے۔ جب سینیٹ انتخابات ہونے والے ہیں اور تمام اپوزیشن جماعتیں سینیٹ انتخابات سے پہلے نواز لیگ حکومت سے چھٹکارا چاہتی ہیں۔
اس ریوڑ کا ایک اور مقصد جسٹس باقر نجفی رپورٹ کی پاداش میں وزیراعلٰی پنجاب شہبازشریف کو بھی نا اہل کروانا ہے۔ جوکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی نا اہلی کے بعد اگلے وزیراعظم ہو سکتے ہیں۔
علامہ صاحب کی اس موسمی وقتی اہمیت اور ان کے ماضی کے ناکام انقلابی دھرنوں کودیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک میں نظریے اور موروثی سیاسی لیڈروں سے زیادہ طاقت ور مذہبی  پیشوا ہیں۔ جو ذاتی مفادات کو مذہبی مطالبات کے غلاف میں لپیٹ کر حکومت سے منواتے ہیں اور سیاسی جماعتیں ان پیشواؤں کی بریگیڈ (مریدین) کو حکومت مخالف تحاریک میں استعمال کر کے اپنے سیاسی عظائم حاصل کرتے ہیں۔
علامہ طاہر القادری کی وقتی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگائیے کہ جس پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف علامہ طاہر القادری نے دھرنا دیا تھا۔ وہ پیپلز پارٹی اب علامہ صاحب کے سیاسی ریوڑ کا حصّہ بنا چاہتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ وہی علامہ طاہر القادری ہیں۔ جوکہ عمران خان کو اسلام آباد دھرنے میں تنہا چھوڑ کر غائب ہوگئے تھے۔ اس کے باوجود عمران خان دو بار خود چل کر منہاج القرآن گئے اور اس سیاسی ریوڑ میں اپنی شمولیت یقینی کروائی۔
ماہِ نومبر میں دیے جانے والے فیض آباد دھرنے میں کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت مخالف تحریک کاحصّہ نہیں تھی۔ جس کی وجہ یقینی طورپر علامہ خادم حسین رضوی کے غیر آئینی مطالبات تھے۔ لیکن اس دھرنے نے تحریک لبیک یا کو ایک سیاسی و مسلکی طاقت کے طور پر منوا دیا۔
علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اور مولانا خادم رضوی میں موجود روحانی طاقتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ در حقیقت دونوں مذہبی پیشوا مظاہروں کے لئے درکار مظاہرین فراہم کرنے والے ایسے سپلائر ہیں۔ جن سے ان کے مریدین کی خدمات آسان شرائط پر حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ان کی یہ خدمات ناصرف وفاقی حکومت کے خلاف بلکہ صوبائی سطح پر بھی مہیا کی جاتی ہیں۔
تاہم ان کی خدمات اسٹیبلشمنٹ کی اجازت کے بغیر فراہم نہیں کی جاتیں۔ لہذا خدمات کے طلبگاروں کے لئے لازم ہے کہ وہ ان پیشواؤں کی پاکستان میں دستیابی، مظاہرین کی مصروف ترین فارغ مصروفیات اور موسم کو مدّ نظر رکھتے ہوئے احتجاج کا ارادہ کریں۔ اس کے علاوہ دوران دھرنا/احتجاج آئٹم سانگ پیش کرنے، سردیوں میں ٹھنڈے مشروبات، سردیوں میں اُبلے دیسی انڈے، سبز چائے اور خشک میوہ جات اور شدید سردی یا گرمی میں مظاہرہ کرنے کے واجبات علیحدہ وصول کیے جاتے ہیں۔